شادی ہائے ہائے۔۔۔

DISCLAIMER: 

آج کی اس تحریر میں آپکو لیکھک کے خیالات اور اندازِ بیاں میں آپکو بغاوت، غصّہ یا بدتمیزی کی بُو آ سکتی ہے۔ 

کمزور ناک والے خواتین و حضرات اسے پڑھنے سے گُریز کریں۔ شکریہ۔

کافی عجیب کانسپٹ ہے۔ شادی ۔ کاغذ پر دستخط کرو اور بس جینا مرنا اٹھنا بیٹھنا کھانا پینا ہنسنا رونا یہی ہے۔ بتایا تو ایسا ہی جاتا ہے۔

اور اِس بندھن میں اونچ نیچ جتنی risky ہے اتنی ہی عام بھی ہے۔ it’s inevitable you know 

موضوع نہایت گہرا اور سنگین ہے اس لئے اسکو حصّوں میں تقسیم کرونگی۔ کچھ آج اور کچھ پھر کبھی لکھوں گی۔ دل مانے تو واپس ضرور آئیے گا۔ 

خیر، تو میں کہہ رہی تھی ہائے ہائے۔۔۔ نام میں شاد تو ایسے ڈالا ہے جیسے ہم ابلتے پانی میں چائے کی پتی ڈالتے ہیں۔ دل کھول کے۔ فرق بس اتنا ہے کہ پتی پانی میں رنگ چھوڑتی ہے اور شاد شادی میں رنگ دکھاتا ہے۔ انسان نام سے دھوکہ کھاتا آیا ہے اور کھاتا رہے گا۔ معصوم ہے یا بیوقوف، مجبور ہے یا پنگے لینے کا عادی، اسکا فیصلہ آپ خود کیجئے۔ تو یہ شاد واد سے ہٹ کر بات کرتے ہیں۔ آج لکھنے والے کا موڈ ذرا off ہے۔ اور اگر آپکا positivity پر لیکچر  دینے کا موڈ ہے تو آپ یہ تحریر بیچ میں چھوڑ کر جا سکتے ہیں۔ بالکل ایسے ہی جیسے شادی کرتے ہی آپکی individuality آپکو چھوڑ کر چلی جاتی ہے۔ یا کہہ لیجئے جیسے شاد شادی کو چھوڑ کر بھاگ جاتا ہے۔ 

جو لوگ اب تک مجھے پڑھ رہے ہیں میں انکی شکر گزار ہوں۔ آپنے میرا غصّہ برداشت کیا۔ چلیں ایک سوچ آپکے ساتھ شیئر کرتی ہوں جسکے آنے پر میں نے یہ تحریر لکھنا شروع کی تھی۔ 

شادی شدہ جوڑے بہت سی نادانیاں کرتے ہیں۔ جن میں سے ایک بڑی نادانی ہے comparison

خواہ وہ اپنی زندگی کے کسی حصّے کو دوسرے سے compare کرنے کی غلطی ہو یا اپنے partner کو کسی سے compare کرنے کی۔ اگر شاد صاحب کبھی واپس آنے کا سوچیں بھی تو یہ غلطی انکو ایسا دُور بھگائے گی کہ اُنکا شین بھی آپکو کبھی نہیں دِکھے گا۔ 

جن کی اچھی گزر گئی یا گزر رہی ہے وہ مبارک باد قبول کریں۔ جو کاٹ رہے ہیں وہ comment کرنے سے گریز کریں۔ اور جو اس بندھن میں باندھنے والے ہیں انکے لئے ایک نصیحت ۔۔۔ نہیں میں آپکو یہیں سے واپس پلٹنے کا نہیں کہونگی۔ بس یہ ذہن میں رکھنا کہ جب کوئی بھی ایسی سوچ آئے کہ میرے ماں باپ یا بلکہ دوست کی مثال سمجھیں کہ میرا فلاں دوست مجھے اس انسان سے بہتر سمجھتا ہے یا میری اُس دوست کے ساتھ بہتر گزر جاتی تو یہ بھی سوچ لینا کہ دوست نے تمہارے ساتھ صرف دوست والی زندگی گزاری ہے، شوہر یا بیوی والی نہیں۔ ممکن ہے کہ اگر اِس جگہ پر واقعی تمہارا دوست ہوتا تو شاید اب تک تم اُسے یا وہ تمہیں شادی کے شاد کی طرح چھوڑ کر بھاگ گیا ہوتا۔

بس آج کے لئے اتنا ہی۔ اور آپ یہ بالکل مت سمجھیے گا کہ یہ سب میری ذاتی زندگی سے جڑا ہوا ہے۔ ہم ادیبوں کے ذہن میں اپنے علاوہ بھی بہت کچھ چلتا ہے۔ 

خیال

کل مسکرائی تو خیال آیا کہ ۔۔۔

کسی کے لئے سب کمال 

وہ جسکو خوشی کے بدلے قرض چکانا پڑے 

ایک ہنسی کے بدلے آنسو بہانا پڑے 

کچھ دیر آرام کے بدلے دگنا بوجھ اٹھانا پڑے 

کیا کہا کمال؟ سب وبال!

قافیہ ردیف معاف!

ایک کہانی سنیے

ایک عمر میں لگا محبت کچھ نہیں 

 ایک وقت آیا سب محبت

 بس محبت 

وعدے دعوے 

دعوے وعدے 

اف پیار 

یہاں اظہار وہاں اظہار 

حدیں کیا ؟ سب پار 

اف پیار۔۔۔

پھر آیا 

?“self love”

جب کیا تو سچ کھلا

سب ڈھونگ! سب بیکار!

یہ نیچے کیا لکھا ہے ؟

خبردار!!!

آپ خود سے پیار کریں 

آپ سے پیار کرنے والے کم ہوجائینگے 

اور میرے اس خیال کو غلط کہنے سے پہلے ۔۔۔

نظم جاری کرتے ہیں 

دل کو بھاری کرتے ہیں 

“عورت کا کوئی گھر نہیں ہوتا”

میں ہنستی تھی اور کہتی تھی 

“عورت اپنا گھر خود ہوتی ہے”

میری یہ مجال ؟

کہنے والے آگئے 

لوٹنے والے آگئے 

کیسے بچاؤں ؟ 

سوچتی ہوں۔۔۔

گھر بنایا کیوں ؟

بنایا بھی تو بتایا کیوں ؟

ہائے ملال! 

صحیح کیا ؟ غلط کیا؟

جس تن بیتے وہ تن جانے 

ذات پات 

اعلیٰ گھٹیا سب اوقات 

جس نے جو دیکھا وہ اسکی حقیقت 

ایک ہی وقت میں 

ایک ہی دنیا میں 

ایک خوش تو ایک بے حال 

تو ہاں ؟ 

سچ کچھ نہیں ، غلط کچھ نہیں 

ہے سب خیال

سراب 2.0

اک طرف خلیفۂ پروردگار۔ دوسری طرف وجہِ فِتنہ۔ سر تا پا فساد۔ سر تا پا تضاد۔ انسان کیا ہے؟ مومن ہے۔ مشرک ہے۔ منافق ہے اور مرتد بھی۔ اسکے فعل میں تکرار ہے۔ یہ عجیب ہے۔ ایک کرشمہ۔ عجوبہ۔ اشرف المخلوقات؟ اسکی ذات میں اختلاف ہے۔ اسکے شوق لا محدود ہیں۔ پر حدود ہیں کیا؟
دیکھیے، سامنےخواہشات کی سیڑھی ہے۔ ایک پاؤں شوق پر، دوسرا تمنا پر۔ آگے بڑھے تو آرزو اور پھر جذبہ۔ اس سے اوپر آتا ہے جنون۔ دیوانگی۔ اور میرے مطابق یہ نفس کے زینے کی انتہا ہے۔ نہایت حساس مقام۔ کہتے ہیں سکوت موت ہے۔ اور مجھے لگتا ہے اس عروج پر موت لاکھ زندگیوں سے بہتر ہے۔ کیونکہ اس کے بعد انسان سیڑھی کی دوسری طرف اترنے لگتا ہے۔ اس اوج پر ڈگمگانا بڑا آسان ہے۔ ذرا سی سرکشی کی دیر ہے پھر وہی قدم بھوک پر۔ جس کے آگے حرص، لالچ، اور آخر کار حوس۔ جو کہ انتہائی ذلیل درجہ ہے۔
ماں مرحومہ کہتی تھیں کہ کبھی کبھی سو سال کا بھوکا ایک پل میں سیر ہوجاتا ہے۔ لیکن کچھ بھوکے سو سال بھی کھا لیں تو سیر نہیں ہوتے۔ جتنا مل جائے، انکی بھوک بڑھتی رہتی ہے۔
ایسا کیوں ہے؟ انسان اپنی خواہشات پر پلتا ہے۔ خواہش مادی ہو یا روحانی، وہ اس کے حصول کے لئے کچھ بھی کر سکتا ہے۔ حیوان بن سکتا ہے۔ آدم خور بھی۔ وہ انسانیت، اقدار سب بھلا سکتا ہے۔ سیڑھی کی دوسری طرف قدم رکھنے کی دیر ہوتی ہے۔ بس۔ اور انسان گدھ کی خصلت اختیار کرلیتا ہے۔ جیسے گدھ کسی کی موت کا انتظار کرتا ہے نہ تاکہ خود کو پال سکے؟ ایسے ہی خواہش کے پیچھے بھاگنے والا بھی انتظار کرتا ہے ہر اس چیز کی موت کا، جو اس کے اور اس کی خواہش کے حصول کے درمیان آتی ہے۔
میں نے خواہشات کو ہمیشہ سراب کی طرح پایا ہے اور انسان کو ازلوں سے بھٹکتے پیاسے کی مانند۔ جو اپنی ساری زندگی اسی سراب کے پیچھے بھاگتے ہوۓ گزار دیتا ہے۔ کچھ پیاسے اس سراب تک پہنچنے کی کوشش میں ہی موت سے جا ملتے ہیں، اور کچھ آخر کار اس کی حقیقت جان لیتے ہیں۔ پر المیہ یہ ہے کہ انسان آخر انسان ہے۔ وہ سب جاننے کے بعد بھی خواہش کی سیڑھی چڑھتے رہنا نہیں چھوڑتا اور نہ ہی چھوڑے گا۔ اور شاید، یا یقیناً، میں اتنا سب لکھنے اور آپ اتنا سب پڑھنے کے بعد بھی جنون پر یا اس سے پہلے نہیں رکیں گے۔ کیونکہ انسان جتنا بھی خود سے بھاگ لے، آخر کار، کہیں نہ کہیں، کسی نہ کسی حد تک رہتا وہ اپنی فطرت کی قید میں ہی ہے۔

چار اپریل دو ہزار اٹھارہ

نیلے، پیلے، جامنی اور سرخ پھول۔ دلکش اور تازہ۔ وہ اُڑ اُڑ کر تھک چکا تھا۔ اپنے پَر سمیٹے وہ ایک گملے پر آ بیٹھا۔ سکون کا سانس۔ اس کا چھوٹا سا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ اس نے اپنی چمکتی ہوئی آنکھیں مٹکا کر ارد گرد دیکھا۔ کچھ پھول تو اس کے وجود سے بھی بڑے تھے۔ اس نے اپنی باریک چونچ سے گیندے کے پھول پر ٹکا ہوا پانی کا ایک قطرہ پیا۔ تازی بارش کا ٹھنڈا پانی۔ سکون کا ایک اور سانس۔

تصویر ساز نے کالی کافی کا ایک اور گھونٹ بھرا اور کپ میز پر رکھ کر آہستہ سے اپنا کیمرہ اُٹھایا۔ منظر پہلے ہی حسین تھا اور اس پر ایک ننھے سے خوبصورت پرندے کا اضافہ۔ اس کو ڈر تھا کہ وہ اس پرندے کو ڈرا کر اُڑا نہ دے۔ آج یہ تصویراچھے سے آجائے تو اسکا بھی بھلا ہوجائے گا۔ آخر اتنا مہنگا کیمرہ خریدہ کس لیئے تھا۔ اس نے دھیرے سے اپنی نشست چھوڑی اور آرام سے ایک قدم اس پرندے کی طرف بڑھایا۔

سردی کافی تھی ۔ ننھا پرندہ کبھی اپنا منہ اپنے پروں میں چھپاتا کبھی اپنے پنجے اپنے نازک سے جسم کے نیچے۔ اس کے دل کی دھڑکن اب ہلکی تھی۔ آنکھ کے کونے سے اسکو وہ تصویر ساز نظر آیا۔ ایک ایک قدم اس کی طرف بڑھاتا۔ دل کی دھڑکن دوبارہ تیز ہونے لگی۔ یہ کیسی پستول ہے؟ اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا آنے لگا تھا۔ کچھ دن پہلے کے مناظر کسی فلم کی طرح اس کے ذہن میں چلنے لگے تھے۔ ایک شکاری اپنی پستول اسکی ماں کے سامنے تانے مسکراتا ہوا انہیں دیکھ رہا ہے۔ ننھا پرندہ سوچ رہا تھا کہ اپنی ماں کے شکار کا غم منائے یا وہاں سے اُڑ جائے۔ اس کے پنجے سُن ہونے لگے۔

تصویر ساز نے زمین پر اپنا کیمرہ ایک خاص نشانے پر رکھا۔ پرندہ ہوش کھونے لگا تھا۔ تصویر ساز اس کی حالت سے انجان مسکراتے ہوئے اس کو دیکھ رہا تھا۔ پرندے کا خوف اس کی مسکراہٹ دیکھ کر مزید بڑھ گیا۔ تصویر ساز نے کیمرے کا بٹن دبایا۔ کیمرے سے مدھم سی آواز آئی۔ پرندہ اکڑ کر وہیں گملے میں گر گیا۔ تصویر ساز نے آگے بڑھ کر پرندے کو اپنے ہاتھوں میں لیا اور دیکھا کہ اس کے دل کی دھڑکن بالکل بند ہے اور ننھا پرندہ مر چکا ہے۔

نخرے

“باجی! آپ نے بابا جی سے بات نہیں کی نا؟ اب نہیں ہوتا مجھ سے یہ سب۔

بلغم۔ پیشاب کے قطرے۔ جگہ جگہ غلاظت۔ مجھ سے روز روز یہ گندگی نہیں صاف کی جاتی۔ وہ بھی اتنے سے پیسوں میں۔ شروع شروع میں تو میں لحاظ کرلیتی تھی کہ چلو بیمار آدمی ہے لیکن اب کرونا کی وبا جس تیزی سے پھیل رہی ہے کیا پتا کب کہاں سے لگ جائے۔ نہ بابا نہ۔ میں نے تو ابھی اپنی بیٹی کی شادی بھی کرنی ہے۔ مجھے کچھ ہو گیا تو ۔۔۔”

“اچھا اچھا بس! کتنا بولتی ہے تو۔ اتنا ڈرامہ۔ کرلوں گی ابّا سے بات۔ پتا ہے نا کتنے غصّے والے ہیں وہ؟ سوچ سمجھ کر بات کرنی پڑے گی کہ صفائی کا تھوڑا خیال کیا کریں۔ فی الحال تو زبان کی بجائے جلدی جلدی ہاتھ چلا اور صفائی کر۔ آج رات صفیہ کو دیکھنے لوگ آ رہے ہیں۔ گھر چمکا دے بس۔”

“آج پھر سے؟؟؟”

راشدہ کا چہرہ سرخ ہوگیا۔ یہ غصہ تھا یا شرمندگی، رب جانے۔

“میرا مطلب تھا کہ خدا خیر کرے گا باجی۔”

راشدہ نے تولیا پلنگ پر پھینکا اور کمرے سے باہر چلی گئی۔

صابرہ نے ناک منہ لپیٹا اور غسل خانہ جہاں سے چھوڑا تھا وہیں سے دوبارہ صاف کرنے لگی۔

۰——————————————————————-۰

“نہیں” قیصر نے اپنی ماں کے کان میں دھیرے سے کہا۔ ماں نے اسکی ران پر ایک چٹکی کاٹی اور راشدہ کو دیکھ کر زبردستی مسکرائی۔ صفیہ نے مٹھائی کی پلیٹ میز پر رکھی اور اپنا دوپٹہ چہرے کے گرد مزید کَس لیا۔

قیصر نے جھُرجھُری لی اور اپنے چہرے کے تاثرات چھُپاتے ہوئے گرم چائے کا گھونٹ لیا۔

“بیٹھو بیٹا! میرے پاس آ کر بیٹھو۔” قیصر کی ماں نے کمرے کی بھاری ہوتی فضا کو ہلکا کرنے کی نا کام کوشش کی۔ راشدہ کا ماتھا پسینے سے بھیگ چکا تھا۔ وہاں صفیہ اور قیصر، دونوں کے والد آپس میں کسی گہری گفتگو میں مشغول ہونے کا دکھاوا کر رہے تھے۔ صفیہ نے مُوڑا گھسیٹا اور اس پر بڑی دِکّت سے بیٹھی۔ آج ایک مہینے میں یہ نویں بار تھا کہ اس نے یہ چُست پاجامہ پہنا تھا۔ وہ آج بھی اتنا ہی تنگ تھا جتنا پہلے دن۔ لیکن آج صفیہ کو عجیب سا خوف تھا کہ اسکا پاجامہ پھٹ ہی جائے گا۔

قیصر صفیہ کے گال پر ابھرے ہوئے گاڑھے کالے مسّے کو مسلسل گُُھور رہا تھا ۔ وہ دل ہی دل میں صفیہ سے چِڑ رہا تھا۔ اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ موچنا اُٹھائے اور اس کے مسّے سے جھانکتے اس موٹے چمکتے سنہری بال کو جڑ سے نوچ ڈالے۔

قیصر کا باپ قیصر کوخونخوار نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ وہ اپنے نخریلے اور نک چڑے بیٹے کی نظروں کو باخوبی پڑھ رہا تھا۔ ماحول میں تنگی اور کڑواہٹ بڑھتی جا رہی تھی۔ راشدہ بار بار اپنا ماتھا پونچھ رہی تھی۔ مسلسل منہ میں آیت کریمہ کا وِرد کرتے وہ دعا کر رہی تھی کہ آج لڑکے کی ماں مٹھائی کی پلیٹ سے ایک گلاب جامن اُٹھا کر صفیہ کے منہ میں ڈال دے لیکن حالات واضح طور پر کچھ اور کہہ رہے تھے۔

راشدہ کی نظر ایک خاص گلاب جامن پر ایسے ہی ٹکی تھی جیسے قیصر کی نظر صفیہ کے گال کے اس مسّے سے نکلے ہوئے اس موٹے سنہری بال پر۔ صفیہ کے زہن پر صرف اسکا پاجامہ سوار تھا۔ اسکا دل بیٹھا جا رہا تھا کہ اگر اتنی خاموشی میں اس کے پاجامے کے چِرنے کی آواز آئی تو کتنی شرمندگی ہوگی۔ وہ اپنا سانس روکے مُوڑے پر ساکن، نظریں جھُکائے بیٹھی تھی۔ مرد حضرات کی گفتگو بھی اب دَم توڑ چکی تھی۔ اتنے میں ایک مکھی اُڑتے ہوئے آئی اور اسی گلاب جامن پر بیٹھ گئی جسکو راشدہ کچھ دیر سے گھُورے جا رہی تھی۔ راشدہ کا دھیان فوراً سے مٹھائی کی پلیٹ سے ہٹا اور قیصر کی طرف گیا۔ مکھی گلاب جامن سے اُڑ کر صفیہ کے مسّے پر جا بیٹھی اور اپنے نازک چپچپے ہاتھوں سے اس مسّے سے لٹکتے بال کو مسلنے لگی۔ قیصر کو ایک جھٹکا لگا اور وہ کھڑا ہوا۔ راشدہ کا وِرد اور اس کے دل کی دھڑکن ایک ساتھ رُک گئے۔

“جی اب میں اجازت چاہوں گا۔” قیصر نے ایک بڑی سی اُبکائی لی۔ اس کا منہ کھٹا ہو چلا تھا۔ اس نے اپنی موٹی موٹی آنکھوں سے پانی صاف کیا اور مہمان خانے سے باہر نکل گیا۔

قیصر کی ماں نے ہڑبڑا کر قیصر کے باپ کو دیکھا جو کہ بے بسی سے صفیہ کو دیکھ رہا تھا۔ سب اُٹھ کھڑے ہوئے۔ صفیہ کا دبا ہوا پیٹ اذیت سے آزاد ہوا۔ اس نے ایک گہری سانس لی۔ صفیہ کے باپ نے اپنے ماتھے کے بل قابو کئیے اور مہمانوں کو دروازے تک رخصت کرنے گیا۔ راشدہ وہیں سُن کھڑی تھی جبکہ صفیہ کے چہرے پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ نمایاں تھی۔ یہ بات تو سچ تھی کہ وہ اب اس سب کی عادی ہوچکی تھی لیکن یہ کہنا مشکل تھا کہ اس کے لبوں پریہ مسکراہٹ کیوں تھی۔ اس لئیے کہ شکر ہوا قیصر خود وہاں سے چلا گیا یا اس لئیے کہ شکر ہوا اس کا پاجامہ اس کا ساتھ دے گیا

۰——————————————————————-۰

“باجی میں نے رات کے سب برتن دھو دئیے ہیں اور چولہا بھی چمکا دیا ہے۔ اچھا باجی آج پیسے بھی دے دیں اور ہاں! اب ۵۰۰ روپے ذیادہ لیا کروں گی ورنہ اپنا کوئی اور بندوبست کرلیں۔ دن بہ دن گزارہ مشکل ہے اور اوپر سے منہوس کرونا نے میرے بندے کا کام ہی بند کروادیا ہے۔ اب بیٹی کی شادی کرنی ہے اور ۔۔۔”

“اچھا اچھا بس! کتنا بولتی ہے تو۔ بڑہا دوں گی۔ اور تو بھی ٹُوٹے ہاتھوں سے صفائی کرنا چھوڑ دے۔ دل لگا کر کام کیا کر تا کہ پیسے حلال ہوں۔”

صابرہ بہت کچھ کہنا چاہتی تھی پر بس اتنا کہا، “باجی کیسا رہا کل رات معاملہ؟”

“بس چھوڑ صابرہ!” راشدہ نے ایک آہ بھری۔

صابرہ نے کندھے جھٹکے اور جھاڑو لہراتی گُنگُناتے ہوئے بابا جی کے کمرے کی طرف چل پڑی۔

۰——————————————————————-۰

صفیہ کمرے کی کھڑکی پر سر ٹکائے اپنے فون میں مگن تھی۔ اچانک فون کی گنٹی بجی اور ایک تصویر سکرین پر نمودار ہوئی۔ فون صفیہ کے ہاتھ سے نیچے گرا اور اس کے گال لال ہوگئے۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے فون زمین سے اُٹھایا اور تصویر کو غور سے دیکھا۔ اس کے منہ سے ہنسی تھوک سمیت باہر نکلی۔ وہ سکرین دیکھ دیکھ کر اونچا اونچا ہنستی رہی۔

“بہت خوب،” اس نے میسج کے جواب میں لکھا۔ “اب چہرا بھی دِکھا دیں۔”

جواب آنے تک وہ اس تصویر کو ہر زاویے سے اور غور غور سے دیکھتی رہی۔ اس کے دل کی دھڑکن تیز تھی اور اسے اپنے جسم میں عجیب سی گُدگُدی محسوس ہو رہی تھی۔

“چہرے میں کیا رکھا ہے مانو جان؟”

جواب پڑھ کر وہ پھر سے کھلکھلا کر ہنسی۔ اسے خود کو مانو کہلوانے کا بہت شوق تھا۔ فیس بُک پر بھی اسکا نام مانو تھا اور وہ چاہتی تھی کہ سب اسکو صفیہ کی بجائے مانو ہی کہیں لیکن اسکا یہ شوق اس کے گھر والوں نے کبھی پورا نہیں کیا تھا۔ وہ بھی کیا کرتے؟ وللہ وہ کہیں سے مانو نہیں لگتی تھی۔ “مانو جان،” اس نے اپنے باریک سے ہونٹوں کو مروڑتے ہوئے دہرایا اور مسکرائی۔ مانو اور اس پر جان کا اضافہ واہ! مزہ آگیا۔

اس نے اُٹھ کر کمرے کی چٹخنی لگائی اور اپنے پیر سے پلنگ پر پڑے اپنے چُست پاجامے کو زمین پر پھینکا۔ پہلے اپنی قمیض کے دو بٹن اور پھر فون کا کیمرہ کھول کر وہ ہنستے ہوئے پلنگ پر اوندھے منہ گر پڑی۔

۰——————————————————————-۰

“ہائے صابرہ! کبھی تو نہا کر آیا کر۔”اسنے ناک سُکیڑے صابرہ کو اوپر سے نیچے دیکھا۔ صابرہ تو جیسے بہری ہوگئی تھی۔ جھٹ سے اس پر جھپٹ پڑی اور کہیں جا کر آدھے گھنٹے بعد ہوش میں آئی۔ اپنے معشوق کا گال چُوما اور پلنگ سے اُتری۔

“قسم سے صابرہ! خدا گواہ ہے۔ تو بہت ڈھیلی ہو چکی ہے لیکن اب بھی مجھے کسی اور سے ذیادہ مزہ تیرے ساتھ ہی آتا ہے۔” صابرہ نے آزار بند کسا اور زمین سے اپنی قمیض اُٹھائی۔

“اور یہ لے ۵۰۰ روپے۔”

“ہیں؟؟؟ یہ پیسے کا خیال کہاں سے آگیا تجھے؟ تو جانتا ہے مجھے تیرے سے پیسے کا لالچ نہیں ہے۔”

“ہاں جانتا ہوں۔ لیکن آج کل کرونا کی وجہ سے تیرے آدمی کا کام دھندہ متاثر ہوا ہوگا نا؟ رکھ لے۔ ویسے بھی کل کے بعد سے مجھے تیری ذیادہ قدر ہوگئی ہے۔ تنگ حالات میں نہیں دیکھ سکتا تجھے۔ میں جان گیا ہوں کہ جو سکون مجھے تو دے سکتی ہے وہ کوئی اور کبھی نہیں دے پائے گا۔ وہ انمول ہے۔ اس ۵۰۰ روپے کی کیا اہمیت۔”

“اچھا؟ ایسا کیا ہوا کل؟” صابرہ نے اپنے بالائی ہونٹ کے اوپر گاڑھی موچھوں سے نکلتے پسینے کے قطرے پونچھے۔

“بس چھوڑ صابرہ!” اس نے جھُرجھُرا کر کہا۔

صابرہ مسکرائی اور اس کا دیا ہوا ۵۰۰ کا نوٹ پاس پڑی میز پر رکھ دیا۔

وہ اپنی موٹی موٹی آنکھیں صابرہ پر ٹکائے ہوئے تھا۔

“نہیں چاہئیے ہیں یہ پیسے مجھے۔ رب پالنے والا ہے۔” یہ کہہ کر صابرہ نے اپنے بکھرے ہوئے چکنے بدبودار بال لپیٹے اور وہاں سے چلی گئی۔

قیصر نے میز پر پڑے ۵۰۰ روپے کے نوٹ کو دیکھا اور مسکرا کر کروٹ بدل کر سو گیا۔

تحریر

-خاک

PROMISES! PROMISES!

*blackout*

His mother left the room, for the sight was heart wrenching.

His father desperately dialing the same number again and again with his trembling hands.

He gasped, “whe…where’s she?”

“We’re trying to reach her, but there’s no answer”, replied a friend.

*blackout*

____________________________________________________________________________________________

She turned the page over, and put the cigarette out. Strange enough, the headache was gone. She took her glasses off, closed her eyes, and put the book down. No vision. No strange objects. She saw nothing. Opened her eyes again. It was different today. She caressed her chest. The palpitations worried her. She sipped from the water bottle she always carried, and breathed deep.

“Pills, oh no. I forgot the pills again.”

She took the pill box out of her bag, and popped 3.

*cell phone vibrating*

“How come it’s on silent?” She asked herself because she never kept her cell phone on silent.

39 missed calls from 3 different numbers.

All three related.

She choked on her pills. Quickly gulped them down with water; meanwhile, calling back on one of the numbers. She felt her lungs shrinking. She kept caressing her chest.

“Hello!”, said a shaky voice.

The voice was familiar. Very familiar.

“Beta, it’s time.”

She tried not to lose senses. Picked her stuff, and rushed downstairs.

“Ma’am are you alright?”, asked the waiter.

“I’ll pay later.” She said with a heavy voice, and left.

She drove as fast as she could. 15 minutes, and she was there. In front of him.

____________________________________________________________________________________________

*heavy breaths*

He tried opening his eyes. The vision was blurred, but he recognized her scent. He tried smiling, but the pain didn’t let him.

She sat next to him holding his hand. “Still warm. Still the same”, she said. Tears dropped down his weak cheek.

Everyone around was quiet. Both of them were quiet. Letting the pain sink in.

“PROMISE ME… PROMISE ME THAT YOU’LL MAKE SURE THAT THE LAST FACE I SEE BEFORE I DIE IS YOURS.”

His words from 9 years ago were echoing in her head.

“I kept my promise”, she wanted to say…

She shed a tear. Wanting to say so much, but she couldn’t; he couldn’t.

He tightened the grip on her hand, and sighed. Looking directly into her eyes.

She bent down, and kissed his forehead.

His eyes closed. He sighed again… and then never again…

 

 

 

رحم، سرکار، رحم

کوئی زندہ ہو اور یاد آتا رہے، اس سے بڑا سانحہ کیا ہو سکتا ہے؟ میرے نزدیک کسی کی یاد آنا اور پھر اس یاد میں گھُلتے جانا بڑے دُکھ کی بات ہے۔ یاد صرف مُردہ تک محدود ہونی چاہئیے۔ جو زندہ ہے، اس سے مُلاقات ہو جانی چاہئیے۔ دیکھیں بات سیدھی سی ہے۔ ایک زندگی ہے۔ کہا جاتا ہے مختصر ہے۔ اس میں بھی اس نوعیت کے غم؟

رب ہی ہم پر رہم کرے۔

بلکہ ایک مرتبہ کسی نے مجھ سے کہا تھا کہ رب تو ہم پر رہم کردیتا ہے، ہم ہی ہیں جو خود پر رحم کرتے ہیں نہ دوسروں پر۔ سچی بات ہے۔

تو جناب، میں کہتی ہوں کہ رحم کریں۔ کسی کو یہ غم نہ دیں۔ خاص دھیاں رہے کہ کوئی آپ کی یاد میں غمگین نہ ہو۔ چھوٹی سی زندگی ہے۔ جس حد تک ہو سکے رحم کریں۔ کسی چاہنے والے کو خود سے محروم نہ کریں۔

یہ عاجزہ بھی اب سے کوشش کرے گی۔ رحم کرے گی۔ آپ بھی کریں۔ اور دعا کریں کہ سرکار بھی اس عاجزہ پر رحم کردیں۔

إنّا لله وإنّا إليهِ رَاجعُون

جناب libido کی وفات کو عرصہ بیت چکا۔ مرحوم اچھے تھے۔ خاموش طبع۔ بے ضرر سے۔ اتنے معصوم کہ کب دم توڑ گئے معلوم نہیں۔ بس جب جناب کی یاد آئی تو دیکھا کہ وہ تو اب زندہ ہی نہیں۔ یاد بھی ایسے آئی کہ جب حیات تھے تو کبھی کبھی آہ بھردیا کرتے تھے تاکہ اپنے وجود کا احساس دلا سکیں۔ اور ہم اتنے ظالم کہ کبھی توجہ ہی نہ دی کہ سرکار کہنا کیا چاہتے ہیں۔ بس وہی دل دہلا دینے والی آہ کی یاد ہی سبب بنی کہ آج یہ پیغام عام کر رہی ہوں۔

خبر ذرا پھیلی تو چند ایک یار احباب نے اُن کے دوبارہ زندہ ہونے کی اُمید اور تسلی دلائی۔ لیکن اب مردہ کو واپس تو بس خالق کا معجزہ ہی لا سکتا ہے، سو سوچ رہے ہیں کہ جب تک معجزہ نہیں ہوتا مرحوم کی لاش کو د فنا ہی دیں تاکہ مزید بے حُرمتی نہ ہو۔ اس لیئے آپ سب سے التماس ہے کہ جناب کی روح کی تسکین کے لیئے ایک مرتبہ فاتحہ پڑھ دیجئے۔ نمازِ جنازہ کل مغرب کے بعد ہوگی۔ مرد حضرات سے گزارش ہے کہ اپنے قیمتی وقت میں سے چند لمحے نکال کر ثواب کی نیت سے نمازِ جنازہ میں شرکت فرمائیں اور خواتین چُپ چاپ گھر کے سب سے اندھیرے کونے میں بیٹھ کر ہمارے اس نقصان پر دو آنسو بہا دیں۔ شکریہ۔

-خاک

PSYCHEDELIA!

my head’s heavy

too heavy! too heavy!

ok imma close my eyes

ummh … the universes are colliding

boooom ha ha

what’s happening

turn the volume up

up up up

naaaah. still no sound

meh! fuck it!

it’s beautiful anyway

stardust

ugh so pretty

oh wait! i have my eyes closed then how the fuck am i seeing this shit???

ah! it’s pretttyyyyyyy!!!

but how can something so destructive look so pretty???

chaotic …

OH GOD!

am i losing my mind??? fuck no! no no no!!! i hope not

the air’s lighter than usual i can tell

but WHAT IS WRONG WITH MY CHEST???

why won’t it let the air go in?

im choking

can’t breathe

am i dying???

FUCK … im dying

ok this is death

so this is how death feels like

hmm … imma throw up

ok the sound’s on now

hahaha whaaaaat is going on

turn the volume down

down down down

my head’s gonna burst

too loud! too loud!

THE FUCK’S THAT??? is that an eye? or a giant electric blue ball?

no shit

it’s an eye

STOP STARING AT ME!!!

i’m scared

too scared! too scared!

take it away from me

GO AWAY!!!

and this sound arghhhhh!!!

SHUT UP

SHUT UP!!!

FOR ONCE, SSSHHH!!!

whose eye is it???

ok i’m dizzy now

i gotta run

run away

FAST!!!

WHY IS IS GETTING CLOSER?

or is it getting bigger?

fuck …

FASTERRRRRRR I GOTTA RUN FASTER

oh man …

i’m tripping …

i …

FUCK —-