“باجی! آپ نے بابا جی سے بات نہیں کی نا؟ اب نہیں ہوتا مجھ سے یہ سب۔
بلغم۔ پیشاب کے قطرے۔ جگہ جگہ غلاظت۔ مجھ سے روز روز یہ گندگی نہیں صاف کی جاتی۔ وہ بھی اتنے سے پیسوں میں۔ شروع شروع میں تو میں لحاظ کرلیتی تھی کہ چلو بیمار آدمی ہے لیکن اب کرونا کی وبا جس تیزی سے پھیل رہی ہے کیا پتا کب کہاں سے لگ جائے۔ نہ بابا نہ۔ میں نے تو ابھی اپنی بیٹی کی شادی بھی کرنی ہے۔ مجھے کچھ ہو گیا تو ۔۔۔”
“اچھا اچھا بس! کتنا بولتی ہے تو۔ اتنا ڈرامہ۔ کرلوں گی ابّا سے بات۔ پتا ہے نا کتنے غصّے والے ہیں وہ؟ سوچ سمجھ کر بات کرنی پڑے گی کہ صفائی کا تھوڑا خیال کیا کریں۔ فی الحال تو زبان کی بجائے جلدی جلدی ہاتھ چلا اور صفائی کر۔ آج رات صفیہ کو دیکھنے لوگ آ رہے ہیں۔ گھر چمکا دے بس۔”
“آج پھر سے؟؟؟”
راشدہ کا چہرہ سرخ ہوگیا۔ یہ غصہ تھا یا شرمندگی، رب جانے۔
“میرا مطلب تھا کہ خدا خیر کرے گا باجی۔”
راشدہ نے تولیا پلنگ پر پھینکا اور کمرے سے باہر چلی گئی۔
صابرہ نے ناک منہ لپیٹا اور غسل خانہ جہاں سے چھوڑا تھا وہیں سے دوبارہ صاف کرنے لگی۔
۰——————————————————————-۰
“نہیں” قیصر نے اپنی ماں کے کان میں دھیرے سے کہا۔ ماں نے اسکی ران پر ایک چٹکی کاٹی اور راشدہ کو دیکھ کر زبردستی مسکرائی۔ صفیہ نے مٹھائی کی پلیٹ میز پر رکھی اور اپنا دوپٹہ چہرے کے گرد مزید کَس لیا۔
قیصر نے جھُرجھُری لی اور اپنے چہرے کے تاثرات چھُپاتے ہوئے گرم چائے کا گھونٹ لیا۔
“بیٹھو بیٹا! میرے پاس آ کر بیٹھو۔” قیصر کی ماں نے کمرے کی بھاری ہوتی فضا کو ہلکا کرنے کی نا کام کوشش کی۔ راشدہ کا ماتھا پسینے سے بھیگ چکا تھا۔ وہاں صفیہ اور قیصر، دونوں کے والد آپس میں کسی گہری گفتگو میں مشغول ہونے کا دکھاوا کر رہے تھے۔ صفیہ نے مُوڑا گھسیٹا اور اس پر بڑی دِکّت سے بیٹھی۔ آج ایک مہینے میں یہ نویں بار تھا کہ اس نے یہ چُست پاجامہ پہنا تھا۔ وہ آج بھی اتنا ہی تنگ تھا جتنا پہلے دن۔ لیکن آج صفیہ کو عجیب سا خوف تھا کہ اسکا پاجامہ پھٹ ہی جائے گا۔
قیصر صفیہ کے گال پر ابھرے ہوئے گاڑھے کالے مسّے کو مسلسل گُُھور رہا تھا ۔ وہ دل ہی دل میں صفیہ سے چِڑ رہا تھا۔ اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ موچنا اُٹھائے اور اس کے مسّے سے جھانکتے اس موٹے چمکتے سنہری بال کو جڑ سے نوچ ڈالے۔
قیصر کا باپ قیصر کوخونخوار نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ وہ اپنے نخریلے اور نک چڑے بیٹے کی نظروں کو باخوبی پڑھ رہا تھا۔ ماحول میں تنگی اور کڑواہٹ بڑھتی جا رہی تھی۔ راشدہ بار بار اپنا ماتھا پونچھ رہی تھی۔ مسلسل منہ میں آیت کریمہ کا وِرد کرتے وہ دعا کر رہی تھی کہ آج لڑکے کی ماں مٹھائی کی پلیٹ سے ایک گلاب جامن اُٹھا کر صفیہ کے منہ میں ڈال دے لیکن حالات واضح طور پر کچھ اور کہہ رہے تھے۔
راشدہ کی نظر ایک خاص گلاب جامن پر ایسے ہی ٹکی تھی جیسے قیصر کی نظر صفیہ کے گال کے اس مسّے سے نکلے ہوئے اس موٹے سنہری بال پر۔ صفیہ کے زہن پر صرف اسکا پاجامہ سوار تھا۔ اسکا دل بیٹھا جا رہا تھا کہ اگر اتنی خاموشی میں اس کے پاجامے کے چِرنے کی آواز آئی تو کتنی شرمندگی ہوگی۔ وہ اپنا سانس روکے مُوڑے پر ساکن، نظریں جھُکائے بیٹھی تھی۔ مرد حضرات کی گفتگو بھی اب دَم توڑ چکی تھی۔ اتنے میں ایک مکھی اُڑتے ہوئے آئی اور اسی گلاب جامن پر بیٹھ گئی جسکو راشدہ کچھ دیر سے گھُورے جا رہی تھی۔ راشدہ کا دھیان فوراً سے مٹھائی کی پلیٹ سے ہٹا اور قیصر کی طرف گیا۔ مکھی گلاب جامن سے اُڑ کر صفیہ کے مسّے پر جا بیٹھی اور اپنے نازک چپچپے ہاتھوں سے اس مسّے سے لٹکتے بال کو مسلنے لگی۔ قیصر کو ایک جھٹکا لگا اور وہ کھڑا ہوا۔ راشدہ کا وِرد اور اس کے دل کی دھڑکن ایک ساتھ رُک گئے۔
“جی اب میں اجازت چاہوں گا۔” قیصر نے ایک بڑی سی اُبکائی لی۔ اس کا منہ کھٹا ہو چلا تھا۔ اس نے اپنی موٹی موٹی آنکھوں سے پانی صاف کیا اور مہمان خانے سے باہر نکل گیا۔
قیصر کی ماں نے ہڑبڑا کر قیصر کے باپ کو دیکھا جو کہ بے بسی سے صفیہ کو دیکھ رہا تھا۔ سب اُٹھ کھڑے ہوئے۔ صفیہ کا دبا ہوا پیٹ اذیت سے آزاد ہوا۔ اس نے ایک گہری سانس لی۔ صفیہ کے باپ نے اپنے ماتھے کے بل قابو کئیے اور مہمانوں کو دروازے تک رخصت کرنے گیا۔ راشدہ وہیں سُن کھڑی تھی جبکہ صفیہ کے چہرے پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ نمایاں تھی۔ یہ بات تو سچ تھی کہ وہ اب اس سب کی عادی ہوچکی تھی لیکن یہ کہنا مشکل تھا کہ اس کے لبوں پریہ مسکراہٹ کیوں تھی۔ اس لئیے کہ شکر ہوا قیصر خود وہاں سے چلا گیا یا اس لئیے کہ شکر ہوا اس کا پاجامہ اس کا ساتھ دے گیا
۰——————————————————————-۰
“باجی میں نے رات کے سب برتن دھو دئیے ہیں اور چولہا بھی چمکا دیا ہے۔ اچھا باجی آج پیسے بھی دے دیں اور ہاں! اب ۵۰۰ روپے ذیادہ لیا کروں گی ورنہ اپنا کوئی اور بندوبست کرلیں۔ دن بہ دن گزارہ مشکل ہے اور اوپر سے منہوس کرونا نے میرے بندے کا کام ہی بند کروادیا ہے۔ اب بیٹی کی شادی کرنی ہے اور ۔۔۔”
“اچھا اچھا بس! کتنا بولتی ہے تو۔ بڑہا دوں گی۔ اور تو بھی ٹُوٹے ہاتھوں سے صفائی کرنا چھوڑ دے۔ دل لگا کر کام کیا کر تا کہ پیسے حلال ہوں۔”
صابرہ بہت کچھ کہنا چاہتی تھی پر بس اتنا کہا، “باجی کیسا رہا کل رات معاملہ؟”
“بس چھوڑ صابرہ!” راشدہ نے ایک آہ بھری۔
صابرہ نے کندھے جھٹکے اور جھاڑو لہراتی گُنگُناتے ہوئے بابا جی کے کمرے کی طرف چل پڑی۔
۰——————————————————————-۰
صفیہ کمرے کی کھڑکی پر سر ٹکائے اپنے فون میں مگن تھی۔ اچانک فون کی گنٹی بجی اور ایک تصویر سکرین پر نمودار ہوئی۔ فون صفیہ کے ہاتھ سے نیچے گرا اور اس کے گال لال ہوگئے۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے فون زمین سے اُٹھایا اور تصویر کو غور سے دیکھا۔ اس کے منہ سے ہنسی تھوک سمیت باہر نکلی۔ وہ سکرین دیکھ دیکھ کر اونچا اونچا ہنستی رہی۔
“بہت خوب،” اس نے میسج کے جواب میں لکھا۔ “اب چہرا بھی دِکھا دیں۔”
جواب آنے تک وہ اس تصویر کو ہر زاویے سے اور غور غور سے دیکھتی رہی۔ اس کے دل کی دھڑکن تیز تھی اور اسے اپنے جسم میں عجیب سی گُدگُدی محسوس ہو رہی تھی۔
“چہرے میں کیا رکھا ہے مانو جان؟”
جواب پڑھ کر وہ پھر سے کھلکھلا کر ہنسی۔ اسے خود کو مانو کہلوانے کا بہت شوق تھا۔ فیس بُک پر بھی اسکا نام مانو تھا اور وہ چاہتی تھی کہ سب اسکو صفیہ کی بجائے مانو ہی کہیں لیکن اسکا یہ شوق اس کے گھر والوں نے کبھی پورا نہیں کیا تھا۔ وہ بھی کیا کرتے؟ وللہ وہ کہیں سے مانو نہیں لگتی تھی۔ “مانو جان،” اس نے اپنے باریک سے ہونٹوں کو مروڑتے ہوئے دہرایا اور مسکرائی۔ مانو اور اس پر جان کا اضافہ واہ! مزہ آگیا۔
اس نے اُٹھ کر کمرے کی چٹخنی لگائی اور اپنے پیر سے پلنگ پر پڑے اپنے چُست پاجامے کو زمین پر پھینکا۔ پہلے اپنی قمیض کے دو بٹن اور پھر فون کا کیمرہ کھول کر وہ ہنستے ہوئے پلنگ پر اوندھے منہ گر پڑی۔
۰——————————————————————-۰
“ہائے صابرہ! کبھی تو نہا کر آیا کر۔”اسنے ناک سُکیڑے صابرہ کو اوپر سے نیچے دیکھا۔ صابرہ تو جیسے بہری ہوگئی تھی۔ جھٹ سے اس پر جھپٹ پڑی اور کہیں جا کر آدھے گھنٹے بعد ہوش میں آئی۔ اپنے معشوق کا گال چُوما اور پلنگ سے اُتری۔
“قسم سے صابرہ! خدا گواہ ہے۔ تو بہت ڈھیلی ہو چکی ہے لیکن اب بھی مجھے کسی اور سے ذیادہ مزہ تیرے ساتھ ہی آتا ہے۔” صابرہ نے آزار بند کسا اور زمین سے اپنی قمیض اُٹھائی۔
“اور یہ لے ۵۰۰ روپے۔”
“ہیں؟؟؟ یہ پیسے کا خیال کہاں سے آگیا تجھے؟ تو جانتا ہے مجھے تیرے سے پیسے کا لالچ نہیں ہے۔”
“ہاں جانتا ہوں۔ لیکن آج کل کرونا کی وجہ سے تیرے آدمی کا کام دھندہ متاثر ہوا ہوگا نا؟ رکھ لے۔ ویسے بھی کل کے بعد سے مجھے تیری ذیادہ قدر ہوگئی ہے۔ تنگ حالات میں نہیں دیکھ سکتا تجھے۔ میں جان گیا ہوں کہ جو سکون مجھے تو دے سکتی ہے وہ کوئی اور کبھی نہیں دے پائے گا۔ وہ انمول ہے۔ اس ۵۰۰ روپے کی کیا اہمیت۔”
“اچھا؟ ایسا کیا ہوا کل؟” صابرہ نے اپنے بالائی ہونٹ کے اوپر گاڑھی موچھوں سے نکلتے پسینے کے قطرے پونچھے۔
“بس چھوڑ صابرہ!” اس نے جھُرجھُرا کر کہا۔
صابرہ مسکرائی اور اس کا دیا ہوا ۵۰۰ کا نوٹ پاس پڑی میز پر رکھ دیا۔
وہ اپنی موٹی موٹی آنکھیں صابرہ پر ٹکائے ہوئے تھا۔
“نہیں چاہئیے ہیں یہ پیسے مجھے۔ رب پالنے والا ہے۔” یہ کہہ کر صابرہ نے اپنے بکھرے ہوئے چکنے بدبودار بال لپیٹے اور وہاں سے چلی گئی۔
قیصر نے میز پر پڑے ۵۰۰ روپے کے نوٹ کو دیکھا اور مسکرا کر کروٹ بدل کر سو گیا۔
تحریر
-خاک