نخرے

“باجی! آپ نے بابا جی سے بات نہیں کی نا؟ اب نہیں ہوتا مجھ سے یہ سب۔

بلغم۔ پیشاب کے قطرے۔ جگہ جگہ غلاظت۔ مجھ سے روز روز یہ گندگی نہیں صاف کی جاتی۔ وہ بھی اتنے سے پیسوں میں۔ شروع شروع میں تو میں لحاظ کرلیتی تھی کہ چلو بیمار آدمی ہے لیکن اب کرونا کی وبا جس تیزی سے پھیل رہی ہے کیا پتا کب کہاں سے لگ جائے۔ نہ بابا نہ۔ میں نے تو ابھی اپنی بیٹی کی شادی بھی کرنی ہے۔ مجھے کچھ ہو گیا تو ۔۔۔”

“اچھا اچھا بس! کتنا بولتی ہے تو۔ اتنا ڈرامہ۔ کرلوں گی ابّا سے بات۔ پتا ہے نا کتنے غصّے والے ہیں وہ؟ سوچ سمجھ کر بات کرنی پڑے گی کہ صفائی کا تھوڑا خیال کیا کریں۔ فی الحال تو زبان کی بجائے جلدی جلدی ہاتھ چلا اور صفائی کر۔ آج رات صفیہ کو دیکھنے لوگ آ رہے ہیں۔ گھر چمکا دے بس۔”

“آج پھر سے؟؟؟”

راشدہ کا چہرہ سرخ ہوگیا۔ یہ غصہ تھا یا شرمندگی، رب جانے۔

“میرا مطلب تھا کہ خدا خیر کرے گا باجی۔”

راشدہ نے تولیا پلنگ پر پھینکا اور کمرے سے باہر چلی گئی۔

صابرہ نے ناک منہ لپیٹا اور غسل خانہ جہاں سے چھوڑا تھا وہیں سے دوبارہ صاف کرنے لگی۔

۰——————————————————————-۰

“نہیں” قیصر نے اپنی ماں کے کان میں دھیرے سے کہا۔ ماں نے اسکی ران پر ایک چٹکی کاٹی اور راشدہ کو دیکھ کر زبردستی مسکرائی۔ صفیہ نے مٹھائی کی پلیٹ میز پر رکھی اور اپنا دوپٹہ چہرے کے گرد مزید کَس لیا۔

قیصر نے جھُرجھُری لی اور اپنے چہرے کے تاثرات چھُپاتے ہوئے گرم چائے کا گھونٹ لیا۔

“بیٹھو بیٹا! میرے پاس آ کر بیٹھو۔” قیصر کی ماں نے کمرے کی بھاری ہوتی فضا کو ہلکا کرنے کی نا کام کوشش کی۔ راشدہ کا ماتھا پسینے سے بھیگ چکا تھا۔ وہاں صفیہ اور قیصر، دونوں کے والد آپس میں کسی گہری گفتگو میں مشغول ہونے کا دکھاوا کر رہے تھے۔ صفیہ نے مُوڑا گھسیٹا اور اس پر بڑی دِکّت سے بیٹھی۔ آج ایک مہینے میں یہ نویں بار تھا کہ اس نے یہ چُست پاجامہ پہنا تھا۔ وہ آج بھی اتنا ہی تنگ تھا جتنا پہلے دن۔ لیکن آج صفیہ کو عجیب سا خوف تھا کہ اسکا پاجامہ پھٹ ہی جائے گا۔

قیصر صفیہ کے گال پر ابھرے ہوئے گاڑھے کالے مسّے کو مسلسل گُُھور رہا تھا ۔ وہ دل ہی دل میں صفیہ سے چِڑ رہا تھا۔ اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ موچنا اُٹھائے اور اس کے مسّے سے جھانکتے اس موٹے چمکتے سنہری بال کو جڑ سے نوچ ڈالے۔

قیصر کا باپ قیصر کوخونخوار نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ وہ اپنے نخریلے اور نک چڑے بیٹے کی نظروں کو باخوبی پڑھ رہا تھا۔ ماحول میں تنگی اور کڑواہٹ بڑھتی جا رہی تھی۔ راشدہ بار بار اپنا ماتھا پونچھ رہی تھی۔ مسلسل منہ میں آیت کریمہ کا وِرد کرتے وہ دعا کر رہی تھی کہ آج لڑکے کی ماں مٹھائی کی پلیٹ سے ایک گلاب جامن اُٹھا کر صفیہ کے منہ میں ڈال دے لیکن حالات واضح طور پر کچھ اور کہہ رہے تھے۔

راشدہ کی نظر ایک خاص گلاب جامن پر ایسے ہی ٹکی تھی جیسے قیصر کی نظر صفیہ کے گال کے اس مسّے سے نکلے ہوئے اس موٹے سنہری بال پر۔ صفیہ کے زہن پر صرف اسکا پاجامہ سوار تھا۔ اسکا دل بیٹھا جا رہا تھا کہ اگر اتنی خاموشی میں اس کے پاجامے کے چِرنے کی آواز آئی تو کتنی شرمندگی ہوگی۔ وہ اپنا سانس روکے مُوڑے پر ساکن، نظریں جھُکائے بیٹھی تھی۔ مرد حضرات کی گفتگو بھی اب دَم توڑ چکی تھی۔ اتنے میں ایک مکھی اُڑتے ہوئے آئی اور اسی گلاب جامن پر بیٹھ گئی جسکو راشدہ کچھ دیر سے گھُورے جا رہی تھی۔ راشدہ کا دھیان فوراً سے مٹھائی کی پلیٹ سے ہٹا اور قیصر کی طرف گیا۔ مکھی گلاب جامن سے اُڑ کر صفیہ کے مسّے پر جا بیٹھی اور اپنے نازک چپچپے ہاتھوں سے اس مسّے سے لٹکتے بال کو مسلنے لگی۔ قیصر کو ایک جھٹکا لگا اور وہ کھڑا ہوا۔ راشدہ کا وِرد اور اس کے دل کی دھڑکن ایک ساتھ رُک گئے۔

“جی اب میں اجازت چاہوں گا۔” قیصر نے ایک بڑی سی اُبکائی لی۔ اس کا منہ کھٹا ہو چلا تھا۔ اس نے اپنی موٹی موٹی آنکھوں سے پانی صاف کیا اور مہمان خانے سے باہر نکل گیا۔

قیصر کی ماں نے ہڑبڑا کر قیصر کے باپ کو دیکھا جو کہ بے بسی سے صفیہ کو دیکھ رہا تھا۔ سب اُٹھ کھڑے ہوئے۔ صفیہ کا دبا ہوا پیٹ اذیت سے آزاد ہوا۔ اس نے ایک گہری سانس لی۔ صفیہ کے باپ نے اپنے ماتھے کے بل قابو کئیے اور مہمانوں کو دروازے تک رخصت کرنے گیا۔ راشدہ وہیں سُن کھڑی تھی جبکہ صفیہ کے چہرے پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ نمایاں تھی۔ یہ بات تو سچ تھی کہ وہ اب اس سب کی عادی ہوچکی تھی لیکن یہ کہنا مشکل تھا کہ اس کے لبوں پریہ مسکراہٹ کیوں تھی۔ اس لئیے کہ شکر ہوا قیصر خود وہاں سے چلا گیا یا اس لئیے کہ شکر ہوا اس کا پاجامہ اس کا ساتھ دے گیا

۰——————————————————————-۰

“باجی میں نے رات کے سب برتن دھو دئیے ہیں اور چولہا بھی چمکا دیا ہے۔ اچھا باجی آج پیسے بھی دے دیں اور ہاں! اب ۵۰۰ روپے ذیادہ لیا کروں گی ورنہ اپنا کوئی اور بندوبست کرلیں۔ دن بہ دن گزارہ مشکل ہے اور اوپر سے منہوس کرونا نے میرے بندے کا کام ہی بند کروادیا ہے۔ اب بیٹی کی شادی کرنی ہے اور ۔۔۔”

“اچھا اچھا بس! کتنا بولتی ہے تو۔ بڑہا دوں گی۔ اور تو بھی ٹُوٹے ہاتھوں سے صفائی کرنا چھوڑ دے۔ دل لگا کر کام کیا کر تا کہ پیسے حلال ہوں۔”

صابرہ بہت کچھ کہنا چاہتی تھی پر بس اتنا کہا، “باجی کیسا رہا کل رات معاملہ؟”

“بس چھوڑ صابرہ!” راشدہ نے ایک آہ بھری۔

صابرہ نے کندھے جھٹکے اور جھاڑو لہراتی گُنگُناتے ہوئے بابا جی کے کمرے کی طرف چل پڑی۔

۰——————————————————————-۰

صفیہ کمرے کی کھڑکی پر سر ٹکائے اپنے فون میں مگن تھی۔ اچانک فون کی گنٹی بجی اور ایک تصویر سکرین پر نمودار ہوئی۔ فون صفیہ کے ہاتھ سے نیچے گرا اور اس کے گال لال ہوگئے۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے فون زمین سے اُٹھایا اور تصویر کو غور سے دیکھا۔ اس کے منہ سے ہنسی تھوک سمیت باہر نکلی۔ وہ سکرین دیکھ دیکھ کر اونچا اونچا ہنستی رہی۔

“بہت خوب،” اس نے میسج کے جواب میں لکھا۔ “اب چہرا بھی دِکھا دیں۔”

جواب آنے تک وہ اس تصویر کو ہر زاویے سے اور غور غور سے دیکھتی رہی۔ اس کے دل کی دھڑکن تیز تھی اور اسے اپنے جسم میں عجیب سی گُدگُدی محسوس ہو رہی تھی۔

“چہرے میں کیا رکھا ہے مانو جان؟”

جواب پڑھ کر وہ پھر سے کھلکھلا کر ہنسی۔ اسے خود کو مانو کہلوانے کا بہت شوق تھا۔ فیس بُک پر بھی اسکا نام مانو تھا اور وہ چاہتی تھی کہ سب اسکو صفیہ کی بجائے مانو ہی کہیں لیکن اسکا یہ شوق اس کے گھر والوں نے کبھی پورا نہیں کیا تھا۔ وہ بھی کیا کرتے؟ وللہ وہ کہیں سے مانو نہیں لگتی تھی۔ “مانو جان،” اس نے اپنے باریک سے ہونٹوں کو مروڑتے ہوئے دہرایا اور مسکرائی۔ مانو اور اس پر جان کا اضافہ واہ! مزہ آگیا۔

اس نے اُٹھ کر کمرے کی چٹخنی لگائی اور اپنے پیر سے پلنگ پر پڑے اپنے چُست پاجامے کو زمین پر پھینکا۔ پہلے اپنی قمیض کے دو بٹن اور پھر فون کا کیمرہ کھول کر وہ ہنستے ہوئے پلنگ پر اوندھے منہ گر پڑی۔

۰——————————————————————-۰

“ہائے صابرہ! کبھی تو نہا کر آیا کر۔”اسنے ناک سُکیڑے صابرہ کو اوپر سے نیچے دیکھا۔ صابرہ تو جیسے بہری ہوگئی تھی۔ جھٹ سے اس پر جھپٹ پڑی اور کہیں جا کر آدھے گھنٹے بعد ہوش میں آئی۔ اپنے معشوق کا گال چُوما اور پلنگ سے اُتری۔

“قسم سے صابرہ! خدا گواہ ہے۔ تو بہت ڈھیلی ہو چکی ہے لیکن اب بھی مجھے کسی اور سے ذیادہ مزہ تیرے ساتھ ہی آتا ہے۔” صابرہ نے آزار بند کسا اور زمین سے اپنی قمیض اُٹھائی۔

“اور یہ لے ۵۰۰ روپے۔”

“ہیں؟؟؟ یہ پیسے کا خیال کہاں سے آگیا تجھے؟ تو جانتا ہے مجھے تیرے سے پیسے کا لالچ نہیں ہے۔”

“ہاں جانتا ہوں۔ لیکن آج کل کرونا کی وجہ سے تیرے آدمی کا کام دھندہ متاثر ہوا ہوگا نا؟ رکھ لے۔ ویسے بھی کل کے بعد سے مجھے تیری ذیادہ قدر ہوگئی ہے۔ تنگ حالات میں نہیں دیکھ سکتا تجھے۔ میں جان گیا ہوں کہ جو سکون مجھے تو دے سکتی ہے وہ کوئی اور کبھی نہیں دے پائے گا۔ وہ انمول ہے۔ اس ۵۰۰ روپے کی کیا اہمیت۔”

“اچھا؟ ایسا کیا ہوا کل؟” صابرہ نے اپنے بالائی ہونٹ کے اوپر گاڑھی موچھوں سے نکلتے پسینے کے قطرے پونچھے۔

“بس چھوڑ صابرہ!” اس نے جھُرجھُرا کر کہا۔

صابرہ مسکرائی اور اس کا دیا ہوا ۵۰۰ کا نوٹ پاس پڑی میز پر رکھ دیا۔

وہ اپنی موٹی موٹی آنکھیں صابرہ پر ٹکائے ہوئے تھا۔

“نہیں چاہئیے ہیں یہ پیسے مجھے۔ رب پالنے والا ہے۔” یہ کہہ کر صابرہ نے اپنے بکھرے ہوئے چکنے بدبودار بال لپیٹے اور وہاں سے چلی گئی۔

قیصر نے میز پر پڑے ۵۰۰ روپے کے نوٹ کو دیکھا اور مسکرا کر کروٹ بدل کر سو گیا۔

تحریر

-خاک

PROMISES! PROMISES!

*blackout*

His mother left the room, for the sight was heart wrenching.

His father desperately dialing the same number again and again with his trembling hands.

He gasped, “whe…where’s she?”

“We’re trying to reach her, but there’s no answer”, replied a friend.

*blackout*

____________________________________________________________________________________________

She turned the page over, and put the cigarette out. Strange enough, the headache was gone. She took her glasses off, closed her eyes, and put the book down. No vision. No strange objects. She saw nothing. Opened her eyes again. It was different today. She caressed her chest. The palpitations worried her. She sipped from the water bottle she always carried, and breathed deep.

“Pills, oh no. I forgot the pills again.”

She took the pill box out of her bag, and popped 3.

*cell phone vibrating*

“How come it’s on silent?” She asked herself because she never kept her cell phone on silent.

39 missed calls from 3 different numbers.

All three related.

She choked on her pills. Quickly gulped them down with water; meanwhile, calling back on one of the numbers. She felt her lungs shrinking. She kept caressing her chest.

“Hello!”, said a shaky voice.

The voice was familiar. Very familiar.

“Beta, it’s time.”

She tried not to lose senses. Picked her stuff, and rushed downstairs.

“Ma’am are you alright?”, asked the waiter.

“I’ll pay later.” She said with a heavy voice, and left.

She drove as fast as she could. 15 minutes, and she was there. In front of him.

____________________________________________________________________________________________

*heavy breaths*

He tried opening his eyes. The vision was blurred, but he recognized her scent. He tried smiling, but the pain didn’t let him.

She sat next to him holding his hand. “Still warm. Still the same”, she said. Tears dropped down his weak cheek.

Everyone around was quiet. Both of them were quiet. Letting the pain sink in.

“PROMISE ME… PROMISE ME THAT YOU’LL MAKE SURE THAT THE LAST FACE I SEE BEFORE I DIE IS YOURS.”

His words from 9 years ago were echoing in her head.

“I kept my promise”, she wanted to say…

She shed a tear. Wanting to say so much, but she couldn’t; he couldn’t.

He tightened the grip on her hand, and sighed. Looking directly into her eyes.

She bent down, and kissed his forehead.

His eyes closed. He sighed again… and then never again…

 

 

 

رحم، سرکار، رحم

کوئی زندہ ہو اور یاد آتا رہے، اس سے بڑا سانحہ کیا ہو سکتا ہے؟ میرے نزدیک کسی کی یاد آنا اور پھر اس یاد میں گھُلتے جانا بڑے دُکھ کی بات ہے۔ یاد صرف مُردہ تک محدود ہونی چاہئیے۔ جو زندہ ہے، اس سے مُلاقات ہو جانی چاہئیے۔ دیکھیں بات سیدھی سی ہے۔ ایک زندگی ہے۔ کہا جاتا ہے مختصر ہے۔ اس میں بھی اس نوعیت کے غم؟ بڑی نا انصافی ہے جناب، بڑی نا انصافی۔

رب ہی ہم پر رہم کرے۔

بلکہ ایک مرتبہ کسی نے مجھ سے کہا تھا کہ رب تو ہم پر رہم کردیتا ہے، ہم ہی ہیں جو خود پر رحم کرتے ہیں نہ دوسروں پر۔ کیا سچی بات ہے۔

تو جناب، میں کہتی ہوں کہ رحم کریں۔ کسی کو یہ غم نہ دیں۔ خاص دھیاں رکھیں کہ کوئی آپ کی یاد میں غمگین نہ ہو۔ چھوٹی سی زندگی ہے نا؟ جس حد تک ہو سکے رحم کریں۔ کسی چاہنے والے کو خود سے محروم نہ کریں۔

یہ عاجزہ بھی اب سے کوشش کرے گی۔ رحم کرے گی۔ آپ بھی کریں۔ اور دعا کریں کہ سرکار بھی اس عاجزہ پر رحم کردیں۔

إنّا لله وإنّا إليهِ رَاجعُون

جناب libido کی وفات کو عرصہ بیت چکا۔ مرحوم اچھے تھے۔ خاموش طبع۔ بے ضرر سے۔ اتنے معصوم کہ کب دم توڑ گئے معلوم نہیں۔ بس جب جناب کی یاد آئی تو دیکھا کہ وہ تو اب زندہ ہی نہیں۔ یاد بھی ایسے آئی کہ جب حیات تھے تو کبھی کبھی آہ بھردیا کرتے تھے تاکہ اپنے وجود کا احساس دلا سکیں۔ اور ہم اتنے ظالم کہ کبھی توجہ ہی نہ دی کہ سرکار کہنا کیا چاہتے ہیں۔ بس وہی دل دہلا دینے والی آہ کی یاد ہی سبب بنی کہ آج یہ پیغام عام کر رہی ہوں۔

خبر ذرا پھیلی تو چند ایک یار احباب نے اُن کے دوبارہ زندہ ہونے کی اُمید اور تسلی دلائی۔ لیکن اب مردہ کو واپس تو بس خالق کا معجزہ ہی لا سکتا ہے، سو سوچ رہے ہیں کہ جب تک معجزہ نہیں ہوتا مرحوم کی لاش کو د فنا ہی دیں تاکہ مزید بے حُرمتی نہ ہو۔ اس لیئے آپ سب سے التماس ہے کہ جناب کی روح کی تسکین کے لیئے ایک مرتبہ فاتحہ پڑھ دیجئے۔ نمازِ جنازہ کل مغرب کے بعد ہوگی۔ مرد حضرات سے گزارش ہے کہ اپنے قیمتی وقت میں سے چند لمحے نکال کر ثواب کی نیت سے نمازِ جنازہ میں شرکت فرمائیں اور خواتین چُپ چاپ گھر کے سب سے اندھیرے کونے میں بیٹھ کر ہمارے اس نقصان پر دو آنسو بہا دیں۔ شکریہ۔

-خاک

PSYCHEDELIA!

my head’s heavy

too heavy! too heavy!

ok imma close my eyes

ummh … the universes are colliding

boooom ha ha

what’s happening

turn the volume up

up up up

naaaah. still no sound

meh! fuck it!

it’s beautiful anyway

stardust

ugh so pretty

oh wait! i have my eyes closed then how the fuck am i seeing this shit???

ah! it’s pretttyyyyyyy!!!

but how can something so destructive look so pretty???

chaotic …

OH GOD!

am i losing my mind??? fuck no! no no no!!! i hope not

the air’s lighter than usual i can tell

but WHAT IS WRONG WITH MY CHEST???

why won’t it let the air go in?

im chocking

can’t breathe

am i dying???

FUCK … im dying

ok this is death

so this is how death feels like

hmm … imma throw up

ok the sound’s on now

hahaha whaaaaat is going on

turn the volume down

down down down

my head’s gonna burst

too loud! too loud!

THE FUCK’S THAT??? is that an eye? or a giant electric blue ball?

no shit

it’s an eye

STOP STARING AT ME!!!

i’m scared

too scared! too scared!

take it away from me

GO AWAY!!!

and this sound arghhhhh!!!

SHUT UP

SHUT UP!!!

FOR ONCE, SSSHHH!!!

whose eye is it???

ok i’m dizzy now

i gotta run

run away

FAST!!!

WHY IS IS GETTING CLOSER?

or is it getting bigger?

fuck …

FASTERRRRRRR I GOTTA RUN FASTER

oh man …

i’m tripping …

i …

FUCK —-

THE HAPPY PLACE

She giggled.

Wiped her face and blew her nose.

“Aah filth!”

She giggled again.

She always loved her face after crying – red. smooth. raw. So much so that she sometimes cried only for the sake of that look. Crazy, right? Aah well!

The bathroom was steamy and her image in the mirror was blur. Rosy cheeks faded. Her eyes were wet again. Heart sinking. She rubbed her soft palm on her chest. As if it was going to help her breathe, but it only made her breasts swing. She gasped. Standing there stark naked, wanting some air. The storm outside was maybe trying to sync with her inner chaos. Who knows. Nature is a mystery. The biggest and the dirtiest of players. She grabbed the bathrobe and stepped out. Left the shower on.

It was freezing out there; God bless her cozy cabin. Small wooden cabin, amidst the woods. Dreamy. Yes. She sat by the fireplace, wrapped in the robe. The crackling sound of wood logs had always been very relaxing for her. And oh, the rain sound was adding to the beauty tonight. She hoped she would heal. She closed her eyes and breathed. Inhale, exhale. Inhale, exhale. She lay on the rug and curled up. Inhale, exhale. Inhale, exhale. She kept her eyes closed.

“Water. Oh the water.”

She stood up and rushed to the bathroom. The water was still running, and the air thick of steam. She untied the bathrobe. It slipped, and got stuck on her hips. She moved forward and it fell to the floor. Exposing her body to the steamy air. She stepped inside, under the shower. The water droplets touched her dry nipples. Goosebumps. She closed her eyes. Hot water running through her curvy body. She ran fingers through her hair and sighed.

“KNOCK KNOCK!!!”

His voice. It was ordinary. Maybe. Raspy. But ordinary. But it always raced her heart. As it did in that moment. She turned around and there he was. Again. Finally. She hugged him and sniffed his neck. The neck that was now wet. He kissed her head. Tightened the hug. She unbuttoned his soaking wet shirt, and he took it and the rest of the clothes off.

“I missed you”, she said.

He smiled. Kissed her lips. She smiled back. He kissed her again, and this time … hard. Like he was longing for it. And yes he was. It had been months. He pushed her against the wall, and kissed her neck. Neck to the collarbone. Leaving the traces. He kissed her freckled chest, and grabbed her breasts. He loved that bust against his hard palms. He grabbed them so hard that she groaned. She could now feel his hard dick against her. THIS is what she wanted- they wanted. He groped her thick thighs, and pulled her up. She knew the drill. Wrapped her legs around him, and arms around his neck. Warm water droplets were glazing their bodies, making the process easier. Quicker. Smoother. He looked into her eyes; she was no longer crying.

“I missed you”, he said.

She smiled. Kissed his lips. He smiled back. She kissed him again, and this time … hard. Obviously she was longing for it. She spent the whole month crying in her dream cabin. Waiting for him. And now when he was there, she couldn’t afford to lose a minute before he disappeared again. He held her by her buttocks, hard. She sighed, and devoured his tongue. She drank him like he was water, and she was someone dying of thirst. He was ready. Her groin had been aching too. The air smelled of burning woods and his strong cologne. She loved both and loved even more when they mixed. Her legs clenched around his waist.

She moaned. More than physical it was something in her head that she was enjoying. The thought of him inside her, the closest possible. This was the biggest pleasure. He was out of breath. Moving back and forth in a rhythm. Slow. Then fast. Faster, and then the fastest possible. Her hard nipples rubbed against his chest. Her bouncing breasts maddened him. They both moaned on the top of their lungs.  Louder than the thunder outside. Both sighed and hugged each other. Letting the water cleanse them.

It was time. Time for him to leave her happy place.

“Till next time”, he whispered.

He wrapped her back in the robe, and held her in his arms. Brought her back to the rug. In front of the fireplace. She lay on the rug. Closed her eyes and curled up.  The wood logs crackling. The thunder roaring. The shower running. And her … crying.

 

 

TO BELOVED…

Like the faded words
on the pale sheets
of my old diary,

Irreformable

Like the crack
on the rough surface
of my broken pendant,

Irreparable

Like the rust
on the metal
of my favourite ring,

Irreplaceable

You are now
a part of me

So ordinary

yet so special

A part,

I never want to part

A part,

that has

the whole of my heart

-Yours…

•رُکنا منع ہے•

میں نے وقت سے بڑا شکاری اور تقدیر سے بڑا کھلاڑی کوئی نہیں دیکھا۔ دونوں مل کر انسان کو ایسی مار مارتے ہیں کہ وہ پھر لمبے عرصے تک کسی قابل نہیں رہتا۔ جب تک خود کو سنبھالنے کے لائق ہوتا ہے، یہ پھر سے تگڑے ہو کر میدان میں آجاتے ہیں۔

رانی

‫باجے، ڈھول، اور تاشوں کی گونج۔ کیا سماں تھا۔‬
‫آج تو گڈو باجی بھی آگے آگے ناچ رہی تھیں۔ جانے ان کے جوڑوں کا درد اچانک کیسے چھٹی پر چلا گیا۔ بنٹی کا تو پوچھیئے مت۔ کالے چہرے پر سفید بتیسی ایسے چمک رہی تھی جیسے رات کے وقت آسمان پر تارے۔ سب خوش تھے۔ کوئی سوگ میں تھا تو رانی۔ نام تو رانی تھا پر توبہ توبہ۔ مقدر ایسوں سے اللّہ بچائے۔ امام دین اپنی ساتویں بیوی کو زیور میں لدے ایسی غلیظ نظروں سے دیکھ رہا تھا کہ شیطان نے بھی لازمً پناہ مانگی ہوگی۔ ‬

‫گلاب، موتیا، اور کافور کی مہک۔ کیا سماں تھا۔‬
‫کلمہ شہادت-‬
‫زار زار رونے والوں سے محلہ بھرا تھا۔ گڈو باجی کا دل دہلا دینے والا ماتم اور اوپر سے بنٹی کی سسکیاں۔ سب سوگوار تھے۔ کوئی خوش تھا تو بس رانی۔ ساف ستھری، خوشبو سے دھُلی، الگ تھلگ چارپائی پر لیٹی آج لگ رہی تھی نہ وہ اصل رانی۔ اسی گلی میں جہاں سے اسکی ڈولی آئی تھی، آج اسکا جنازہ جانا تھا۔ وہی رش، وہی شور۔ خاص فرق نہ تھا۔ کچھ تھا تو بس یہ کہ تب وہ بوجھ تلے دبی تھی، اور اب، تمام فکروں سے آزاد۔‬

براۓ فروخت

Instagram: omgkhaak

دیکھو ماں میں کتنی پیاری لگ رہی ہوں۔ سارا گاؤں مجھے کلوٹی بلاتا ہے، لیکن دیکھو خالہ نے مجھے کتنا پیارا دلهن جیسا تیار کیا ہے۔ اتنی گوری لگ رہی ہوں۔ سب سہیلیاں باہر کھڑی جل رہی تھیں مجھ سے۔ اتنا مزہ آیا، کوئ پہلی بار جلا مجھ سے۔
ماں کچھ بولو نہ۔ روۓ جا رہی ہو کب سے۔ ابّا نے پھر سے مارا؟ تم فکر نہ کرو۔ پتا ہے باہر اتنی بڑی گاڑی آئ ہے مجھے شہر کی سیر کرانے لے جاۓ گی۔ ابّا نے بتایا ہے۔ تب ہی تو خالہ نے اتنا سجایا ہے مجھے۔ شہر میں سب ایسے ہی سجے ہوۓ رہتے ہیں۔ میں وہاں سے تمہارے لیۓ بہت کچھ لاؤں گی۔ تم بس رونا بند کردو۔ ابّا بھی خوش ہے اب۔ اس کو بھی اب اتنے سارے پیسے ملے ہیں اس بڑی گاڑی والے آدمی سے۔
فرشتہ بھیجا ہے الله نے شاید۔
ماں؟ اس نے میرا ماتھا چوم کے پیسے بھی وارے مجھ سے۔ پر ایک بات بتا؟ اس نے مجھےمیری دلهنکیوں کہا؟ بھلا اتنی چھوٹی سی بھی کوئ دلهن ہوتی ہے کبھی؟ ہاہاہا۔ معصوم سا بابا ہے وہ فرشتہ۔
ماں، مجھے امیر ہو کر بہت مزہ آ رہا ہے۔ اب ہم روز پیٹ بھر کر کھانا کھایا کریں گے۔
ماں؟

“بولنا بند کر اب اور جا گاڑی میں جا کر بیٹھ جا”


گلے نہیں لگاؤ گی؟ شام کو آ تو جاؤں گی پر تم پھر بھی یاد آؤ گی۔ تمہارے بغیر رہا نہیں نہ جاتا۔

“باجی؟؟؟؟؟ گاڑی تیار ہےچھوٹی کو بھیج دو”

ماں چل اب میں جا رہی ہوں۔ رب راکھا۔

“رب راکھا چھوٹی۔ شادی مبارک”