رانی

‫باجے، ڈھول، اور تاشوں کی گونج۔ کیا سماں تھا۔‬
‫آج تو گڈو باجی بھی آگے آگے ناچ رہی تھیں۔ جانے ان کے جوڑوں کا درد اچانک کیسے چھٹی پر چلا گیا۔ بنٹی کا تو پوچھیئے مت۔ کالے چہرے پر سفید بتیسی ایسے چمک رہی تھی جیسے رات کے وقت آسمان پر تارے۔ سب خوش تھے۔ کوئی سوگ میں تھا تو رانی۔ نام تو رانی تھا پر توبہ توبہ۔ مقدر ایسوں سے اللّہ بچائے۔ امام دین اپنی ساتویں بیوی کو زیور میں لدے ایسی غلیظ نظروں سے دیکھ رہا تھا کہ شیطان نے بھی لازمً پناہ مانگی ہوگی۔ ‬

‫گلاب، موتیا، اور کافور کی مہک۔ کیا سماں تھا۔‬
‫کلمہ شہادت-‬
‫زار زار رونے والوں سے محلہ بھرا تھا۔ گڈو باجی کا دل دہلا دینے والا ماتم اور اوپر سے بنٹی کی سسکیاں۔ سب سوگوار تھے۔ کوئی خوش تھا تو بس رانی۔ ساف ستھری، خوشبو سے دھُلی، الگ تھلگ چارپائی پر لیٹی آج لگ رہی تھی نہ وہ اصل رانی۔ اسی گلی میں جہاں سے اسکی ڈولی آئی تھی، آج اسکا جنازہ جانا تھا۔ وہی رش، وہی شور۔ خاص فرق نہ تھا۔ کچھ تھا تو بس یہ کہ تب وہ بوجھ تلے دبی تھی، اور اب، تمام فکروں سے آزاد۔‬

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s