دوسرا پہلو

میں اس معاشرے کا ایسا حصّہ ہوں جو شاید یہاں کی کسی بھی چیز سے خوش نہیں. نہ روایات سے، روایات بنانے والوں سے، اور نہ ہی ان روایات پر چلنے والوں سے. آج انہی روایات میں سے ایک کا ذکر کروں گی جو میرے لئے قابل نفرت ہے. ہمارے ہاں عورتوں کے معاملے میں شادی کو ایک بوجھ سے کم نہیں سمجھا جاتا. یعنی شادی ہوجاۓ تو وہ عورت سے “بیچاری عورت” بن جاتی ہے. اور کافی حد تک یہاں ایسا ہوتا بھی ہے. پر یہ بوجھ صرف عورت ذات تک محدود نہیں ہے. مرد بھی کچھ بوجھ رکھتے ہیں جن میں سے ایک وہ بوجھ جسکو میں نے اوپر روایت کہا. وہ یہ ہے کہ اس سے ماں اور بیوی میں برابر کا پیار اورذمہ داریاں بانٹنے کی امید کی جاتی ہے. اور اگر وہ ایسا نہ کر پاۓ تو اسکو احمق سمجھا جاتا ہے. ماں کی طرف پیار اور ذمہ داری زیادہ نبھا لے تو “ماں کا پلّو پکڑ کر چلنے والا نا مرد” اور اگر یہ جھکاؤ بیوی کی طرف زیادہ ہو تو “زن مرید نا مرد” تصور کیا جاتا ہے. یعنی کہ دونوں صورتوں میں سوال اسکی مردانگی پر آتا ہے.
اب اس معاملے کو لے کر دو باتیں میرے ذہن میں آتی ہیں.
پہلی یہ کہ کیا آپ کو نہیں لگتا مرد اور ترازو میں فرق ہوتا ہے؟ یا ایسا ہے کہ اس کے پاس کوئی آلہ ہے جس پر لکھا آجاۓ کہ آج بیوی کی طرف جھکاؤ زیادہ ہوگیا ہے یا آج ماں کو زیادہ وقت دے بیٹھا ہے؟
دوسری بات یہ کہ میرے نزدیک ماں اور بیوی کو برابر پہ رکھنا اپنے آپ میں ہی جہالت ہے. نہیں؟ مطلب دونوں ہی عورت ذات، جس میں حسد کا مادہ ذرا زیادہ ہوتا ہے. اور دونوں کے ہی دل کے قریب وہ مرد. ایک کے دل میں اس کا بیٹا اور ایک کے دل میں اس کا شوہر. میرے مطابق سب مسائل یہیں سے شروع ہوتے ہیں. یہیں سے اس ماں اور بیوی کے دل میں ایک دوسرے کو لے کر مقابلہ شروع  ہوتا ہے اور حسد پیدا ہوتا ہے.
اب یہی اگر ماں کو ماں کا وہ درجہ دیا جاۓ جو الله نے اس کے لئے چنا ہے اور بیوی کو اس کے ساۓ میں ایک نئی بیٹی کا درجہ دیا جاۓ جو الله نے ایک بیٹی کے لئے رکھا ہے تو کیا کبھی یہ رشتہ آسانی سے آلودہ ہو سکتا ہے؟
یہاں ذمہ داری مرد کی ہے، پر صرف مرد کی نہیں، عورت کی بھی ہے. پھر چاہے وہ ماں ہو یا بیوی. رشتے کبھی بھی مقابلہ کر کے یا حق جتا کر بنتے نہیں بلکہ ٹوٹتے ہیں. اگر الله کے بناۓ ہوئے اصول اور حدود میں اپنی اپنی جگہ رہا جاۓ تو طلاق جیسا نا پسندیدہ عمل اتنا عام نہ ہو. نہ بیوی اپنے عھدے سے اوپر بڑھ کر ماں کے ساتھ کھڑی ہو اور نہ ہی ماں اپنے عہدے سے نیچے آ کر بیوی کے مقابلے پر کھڑی ہو.
مرد کی غلطی وہاں ہے جہاں وہ اپنی ذمہ داری سے ہٹ کر ان دونوں کو ان کے معاملات میں ٹکریں مارنے کے لئے چھوڑ دیتا ہے اور آخر کار اگر تباہی نہ بھی ہو تب بھی کچھ نہ کچھ خرابیاں آ ہی جاتی ہیں.
پھر بات وہیں آجاتی ہے کہ عقل تو سب رکھتے ہیں پر ہمّت اور عمل کوئی کوئی کرتا ہے. لیکن کم از کم اس عجیب سی روایت کو بنانے اور اس پر عمل کرنے والوں کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئیے کہ الله نے برابر کے حقوق، پیار اور توجہ دو، تین یا چار بیویوں میں بانٹنے کا حکم دیا ہے. ماں اور ایک بیوی کے درمیان میں نہیں. اس لئے انکو برابر کھڑا کر کے رشتے بگاڑنے کے بجاۓ اگر انکو اپنی اپنی جگہ پر رکھ کر الگ الگ حقوق پورے کیے جایًیں تو شاید سکون کا کوئی راستہ نکل آۓ.

Advertisements

2 comments

  1. icedscream · November 14, 2015

    Sai baat hai. Aur mere khayal se aaj kal k log shadi sunnat k liye kam aur abaadi barhany k liye zyada kerte hain. Mard hamesha se isi mushkil mai raha hai.

    Liked by 1 person

  2. Maestro · November 14, 2015

    Balance! Fizza Balance. It is quite difficult to keep balance between the two. A wife deserves more than anything because she leaves her mother for him. But its the society these days. Allah sb lrkio k mustaqbil aasan kre.

    Liked by 1 person

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s