سراب

ok

کہا جاتا ہے کہ انسان اشرف المخلوقات ہے. تمام مخلوقات سے افضل. اور اسکی وجہ یہ ہے کہ وہ عقل رکھتا ہے، ہر چیز کی سمجھ رکھتا ہے. لیکن اگر انسان اتنا ہی عظیم اور دانش ہے تو اس میں سکون کی کمی کیوں ہوتی ہے؟ ہر فتنہ ہر فساد اسی کی وجہ سے کیوں ہوتا ہے؟ شیطان اسی پر حاوی کیوں ہوتا ہے؟
“کبھی کسی بے چین انسان میں جھانک کر دیکھیں، ان تمام سوالات کا ایک ہی جواب پائیں گے. “خواہش
کہنے کو تو یہ صرف ایک ادنیٰ سا لفظ ہے پر یہی ایک لفظ اس اشرف المخلوقات کو اس کے عھدے سے نیچے گرا دیتا ہے. انسان میں سکون کی کمی بھی اسی چھوٹے سے لفظ میں چھپی ہوئی ہے. اسی کی وجہ سے انسان کئی بار اسے نقصان کا سامنا کر بیٹھتا ہے جس کی تکلیف کا اندازہ شاید اس کے یا اس کے رب کے علاوہ کوئی نہیں لگا سکتا.
انسان کو ہوۓ نقصان کا تعلق خواہش کے چھوٹے یا بڑے ہونے سے نہیں ہوتا، اس کا تعلق خواہش کی شدّت سے ہوتا ہے. باز اوقات بڑی بڑی خواہشات پر انسان ہار مان جاتا ہے اور باز اوقات کسی چھوٹی سی خواہش کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیتا ہے.
ذرا تجزیہ کیا جاۓ تو پتا چلتا ہے کہ انسان ہمیشہ کسی نہ کسی چیز کا بھوکا ہوتا ہے. ماں کہتی ہیں کہ کبھی کبھی سو سال کا بھوکا ایک دن میں سیر ہوجاتا ہے، پر کبھی کبھی ایک دن کا بھوکا سو سال میں بھی سیر نہیں ہو پاتا. کیونکہ بات بھوک کی ہوتی ہی نہیں ہے، بات تو اسکی خواہش کی ہوتی ہے جو بھوک پر حاوی ہو کر اسکو حرص بنا دیتی ہے. اورپتہ ہے انسان کی بھوک اور حرص ختم کیوں نہیں ہوتی؟ کیوں کہ وہ اپنی خواہشات پر پلتا ہے. اور خواہش سے ہمیشہ بھوک بڑھتی ہے. پھر خواہش چیز کی ہو یا کسی انسان کی، وہ اس کے حصول کے لئے حیوان بھی بن سکتا ہے اور حیوان سے آگے آدم خور بھی. وہ انسانیت، اقدار سب بھلا سکتا ہے. صرف ایک ہلکی سی خواہش جاگنے کی دیر ہوتی ہے اور انسان گدھ کی خصلت اختیار کرلیتا ہے. جیسے گدھ کسی کی موت کا انتظار کرتا ہے نہ تاکہ خود کو پال سکے؟ ایسے ہی خواہش کے پیچھے بھاگنے والا بھی انتظار کرتا ہے ہر اس چیز کی موت کا، جو اس کے اور اس کی خواہش کے حصول کے درمیان آتی ہے.
میں نے خواہشات کو ہمیشہ سراب کی طرح پایا ہے اور انسان کو ازلوں سے بھٹکتے پیاسے کی مانند جو اپنی ساری زندگی اسی سراب کے پیچھے بھاگتے ہوۓ گزار دیتا ہے. کچھ پیاسے اس سراب تک پہنچنے کی کوشش میں ہی موت سے جا ملتے ہیں، اور کچھ آخر کار اس کی حقیقت جان لیتے ہیں.
پر جیسا میں نے کہا کہ انسان کی فطرت سے برا میں نے اس دنیا میں کچھ نہیں دیکھا، مطمئن ہونا ہر انسان میں پایا ہی نہیں جاتا. جب خواہش کرتا ہے تو ہر حد پار کر کے اس کی شدّت میں اپنا آپ گنوانے کو تیار ہوجاتا ہے اور جب اسکو پا لیتا ہے تو اگلے ہی لمحے اسکی قدر بھول جاتا ہے. پھر اسکو یاد آتا ہے کہ جس خواہش کو ایک وقت میں اس نے پالا تھا، اسی خواہش نے پلنے کے بعد خود کو طاقتور کر لیا کے اس کو کمزور کر کے اپنی قید میں کرلیا.
اسی خواہش نے ایک وقت میں قابیل کو قاتل بنا دیا تھا، اور نہ جانے قیامت تک کتنوں کو یہ خواہش اپنے زیر اثر رکھ کر قابیل بناتی رہے گی.
پر المیہ یہ ہے کہ انسان آخر انسان ہے. وہ سب جاننے کے بعد بھی خواہش کرنا نہیں چھوڑتا اور نہ ہی چھوڑے گا. اور شاید، یا یقینن، میں اتنا سب لکھنے اور آپ اتنا سب جاننے کے باوجود کبھی خواہش کرنا نہیں چھوڑیں گے. کیونکہ انسان جتنا بھی خود سے بھاگ لے، آخر کار رہتا وہ اپنی فطرت کی قید میں ہی ہے.

Advertisements

3 comments

  1. icedscream · November 10, 2015

    beshak insaan apna hi mohtaaj hai, aur apna hi kaatil bhi.. bohat khoob likha aap ne!

    Like

  2. Maestro · November 11, 2015

    Nice one.

    Liked by 1 person

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s